Reality?????
ہم بڑے ہو گئے .....ھم بڑے ہو گئے
سب کے سب کھو گئے
ہم بڑے ہو گئے !!!
ذمداری مسلسل نبھاتے رہے
بوجھ اوروں کا بھی ہم اٹھاتے رہے
اپنے دکھ سوچ کر ہم روئیں تنہائی میں
محفلوں میں مگر مسکراتے رہے
کتنے لوگوں سے اب مختلف ہو گئے
ہم بڑے ہو گئے !!!
اور کتنی مسافت ہے باقی ابھی ؟
زندگی کی حرارت ہے کتنی ابھی ؟
وه جو ہم سے بڑے ہیں سلامت رہیں
ان سبھی کی ضرورت ہے باقی ابھی
جو تھپک کر سلاتے تھے خود سو گئے
ہم بڑے ہو گئے!!!
ختم ہونے کو اب زندگی ہوئی
جانے کب آئی اور کیا جوانی ہوئی
دیکھتے دیکھتے کیا سے کیا ہو گیا
جو حقیقت تھی اب وه کہانی ہوئی
منزلیں مل گیئں ، ہمسفر کھو گئے
ہم بڑے ہو گئے ..... بڑے ہو گئے
!!!

No comments:
Post a Comment